خول

 

ہماری زندگی میں بہت سی چیزیں بار بار ہوتی ہیں، کچھ ہمیں سکھاتی ہیں اور کچھ ہمیں توڑ دیتی ہیں۔
انہی تجربوں کے بعد ہم اپنے اردگرد boundaries بناتے ہیں 
ایسی حدود جنہیں ہم دوسرے لفظوں میں خول بھی کہہ سکتے ہیں۔

یہ خول بُرے نہیں ہوتے۔
یہ ہمیں بار بار ایک ہی چیز کے ڈسنے سے بچاتے ہیں۔
یہ ایک طرح کا سیف زون ہوتے ہیں۔

لیکن جیسے ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں 

 خیر اور شر 
ایسے ہی ان خولوں میں بھی ایک نقصان ہے۔
جب کوئی چیز ہمارے پرانے زخم کو چھو لے،
تو وہ خول ٹوٹنے لگتا ہے،
اور ٹروما ہِٹ کر جاتا ہے۔

ٹروما ہوتا کیا ہے؟

ٹروما ایک اندرونی زخم ہے۔
یہ جسم پر نہیں، دل یا روح پر لگتا ہے۔
یہ کسی ایسے واقعے سے پیدا ہوتا ہے جو انسان کے برداشت سے باہر ہو۔

کبھی یہ ایک لمحے میں ہوتا ہے جیسے کسی عزیز کا چلے جانا، یا کوئی حادثہ۔
اور کبھی یہ آہستہ آہستہ بنتا ہے جیسے مسلسل نظراندازی، تذلیل، یا عدمِ محبت۔

باہر سے انسان ٹھیک لگتا ہے،
لیکن اندر کہیں ایک زخمی بچہ چھپا ہوتا ہے۔
اور وہ زخم وقت گزرنے کے باوجود کبھی کبھار پھر سے جاگ اُٹھتا ہے۔
یہی ٹروما ہے 
ایک ماضی کا درد، جو حال میں بھی زندہ رہتا ہے۔

ٹروما کرتا کیا ہے؟

ٹروما ہمارے اندر کے جذبات کو باہر لاتا ہے۔

اکثر ہم ساری باتیں مغربی نفسیات کے تناظر میں سمجھتے ہیں،
جہاں ہر چیز کو صرف سائنسی یا جذباتی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
مگر ایک مسلمان کے طور پر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے
کہ ہر چیز کے پیچھے اللہ کی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہ
اگر اندر خیر ہے تو وہ خیر نکالتا ہے،
اور اگر شر ہے تو وہی ظاہر ہو جاتا ہے۔

یعنی یہ دراصل ایک آئینہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے
کہ ہمارے اندر کیا زیادہ طاقتور ہے خیر یاشر۔

ٹروما بھی ایک طرح کی آزمائش ہے 
جو ہمیں خود کو سمجھنے  کا موقع دیتی ہے۔

اگر ہم اس بات کو گہرائی سے سمجھنا چاہیں،
تو ہمیں اپنے رول ماڈلز  ک
ی زندگیوں کو دیکھنا چاہیے۔

ذرا سوچیں، ایک چار سال کا بچہ جس کا باپ دنیا میں نہیں۔
چھ سال کی عمر میں ماں بھی چلی جاتی ہے،
پھر دادا بھی۔
پھر وہ اپنے چچا کے گھر آتا ہے جہاں پہلے سے فیملی موجود ہے۔
ہر وہ شخص جس سے محبت ملی، وہ اس سے جدا کر دیا گیا۔
۔

کیا یہ سب ٹروما نہیں؟

یہ بچہ کوئی عام انسان نہیں تھا 
یہ محمد ﷺ تھے۔

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ نبیوں کے ساتھ یہ نہیں ہوتا تھا،جو ہمارے ساتھ ہوتا ہے 
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی نفسیات بھی انسانی تھی۔
بس فرق یہ تھا کہ اُن کا رد عمل مُختلف تھا

اسی طرح حضرت موسیٰؑ کو دیکھیں۔
جب اللہ نے انہیں حکم دیا کہ فرعون کے دربار میں جاؤ،
تو انہوں نے دعا کی:

“یارب! میرا سینہ کھول دے، میری زبان کی گرہ کھول دے
اور میرے ساتھ میرا بھائی ہارون بھیج دے۔”

کیوں؟
کیونکہ وہ اکیلے نہیں جانا چاہتے تھے۔اُنہیں خوف تھا 
انہیں ایک ساتھی چاہیے تھا 
یہ انسانی کیفیت ہے، کمزوری نہیں۔

فرق صرف ردعمل کا ہے

تو فرق یہ ہے کہ انہوں نے ان زخموں کا ردعمل کیسے دیا۔

انہوں نے بھی خول بنائے، مگر وہ خول تلخی کے نہیں، صبر کے تھے۔

ہم بھی زخم کھاتے ہیں،
مگر اکثر ان خولوں کے اندر کڑواہٹ جمع کر لیتے ہیں۔
اگر ہم وہی زخم اللہ کے سامنے رکھ دیں،اور یہ سمجھ جائیں کہ ہر چیز کسی مصلحت کے تحت ہوتی ہے 
تو وہ شفا بن جاتے ہیں،
اور دل نرم ہو جاتا ہے۔

ٹروما ہمیں توڑتا بھی ہے اور بناتا بھی ہے۔
اصل فرق صرف اس ردعمل میں ہے جو ہم دکھاتے ہیں۔
نبیوں نے زخموں کے لیے کیسے react کیا ہمیں ان سے سیکھنا ہے 
ہم بھی اُن کی طرح  react کر سکتے ہیں
اگر ہم سیکھ جائیں کہ خول قید نہیں، حفاظت ہیں۔

کیونکہ آخر میں ہر زخم کے پیچھے ایک مقصد ہوتا ہے 
اور ہر درد کے اندر،اللہ کی طرف واپس بلانے والی ایک روشنی۔


written by : Insha Zulfiqar (instagram)  



Comments

Popular posts from this blog

لا محدودیت

دو مُختلف دنیائیں