Posts

خول

  ہماری زندگی میں بہت سی چیزیں بار بار ہوتی ہیں، کچھ ہمیں سکھاتی ہیں اور کچھ ہمیں توڑ دیتی ہیں۔ انہی تجربوں کے بعد ہم اپنے اردگرد boundaries بناتے ہیں  ایسی حدود جنہیں ہم دوسرے لفظوں میں خول بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ خول بُرے نہیں ہوتے۔ یہ ہمیں بار بار ایک ہی چیز کے ڈسنے سے بچاتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا سیف زون ہوتے ہیں۔ لیکن جیسے ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں   خیر اور شر  ایسے ہی ان خولوں میں بھی ایک نقصان ہے۔ جب کوئی چیز ہمارے پرانے زخم کو چھو لے، تو وہ خول ٹوٹنے لگتا ہے، اور ٹروما ہِٹ کر جاتا ہے۔ ٹروما ہوتا کیا ہے؟ ٹروما ایک اندرونی زخم ہے۔ یہ جسم پر نہیں، دل یا روح پر لگتا ہے۔ یہ کسی ایسے واقعے سے پیدا ہوتا ہے جو انسان کے برداشت سے باہر ہو۔ کبھی یہ ایک لمحے میں ہوتا ہے جیسے کسی عزیز کا چلے جانا، یا کوئی حادثہ۔ اور کبھی یہ آہستہ آہستہ بنتا ہے جیسے مسلسل نظراندازی، تذلیل، یا عدمِ محبت۔ باہر سے انسان ٹھیک لگتا ہے، لیکن اندر کہیں ایک زخمی بچہ چھپا ہوتا ہے۔ اور وہ زخم وقت گزرنے کے باوجود کبھی کبھار پھر سے جاگ اُٹھتا ہے۔ یہی ٹروما ہے  ایک ماضی...

دو مُختلف دنیائیں

کبھی ہم کسی سے کچھ سیکھتے ہیں…  اور پھر اُسی سیکھے ہوئے کو اپنے انداز میں ڈھال لیتے ہیں۔ الفاظ بدل جاتے ہیں، لہجہ اپنا ہو جاتا ہے۔ اور لگتا ہے کہ یہ سب تو ہمارا ہی ہے۔ لیکن…  کبھی کبھی اِس سب میں ہم بھول جاتے ہیں اُن لوگوں کو جن سے ہم نے سیکھا ہوتا ہے۔  جنہوں نے وہ پہلی چنگاری جلائی تھی۔ ہم uniqueness کے چکر میں ہوتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ ہماری اصل بنیاد کسی اور نے رکھی تھی۔ میرا ماننا ہے کہ ہمیں ہمیشہ mention کرنا چاہیے اُن لوگوں کو جنہوں نے ہمیں کچھ سکھایا ہو  کیونکہ ہم اکثر کسی کو تب legend بناتے ہیں جب وہ ہم میں نہیں ہوتے۔ حالانکہ اصل بات تو یہ ہے کہ اُن کی قدر تب کی جائے جب وہ ہمارے پاس ہوں، ہمارے ساتھ ہوں۔ اب بات ہو صدف میم کی… تو دل تھوڑا soft ہو جاتا ہے۔ پہلی کلاس تھی، پہلا دن… اور میں honestly کہوں تو وہ پہلی ہی lecture میں دل کے قریب لگنے لگی تھیں۔ اتنی آسانی سے سمجھا دیتی تھیں چیزیں، جیسے کوئی مشکل بات ہو ہی نہ۔ اور جو میں سمجھا نہیں پاتی تھی ۔۔ جو میرے اندر چل رہا ہوتا تھا لیکن انہیں الفاظ دینا میرے لیے مشکل تھا۔۔۔۔ تو آج اُنہی سے سیکھے گئے ایک topic ...

لا محدودیت

میں اکثر سوچا کرتی تھی... کہ ہماری ارواح کی وہ پرانی یادیں ہمیں کیوں نہ دی گئیں؟ وہ مقام، وہ ملاقاتیں، وہ وعدے  جنہیں ہم نے لوحِ محفوظ سے پہلے کہیں کیا تھا  وہ سب دھندلے کیوں ہو گئے؟ ہمیں وہ نظر کیوں نہیں آتی جو ہم پہلے سے جانتے تھے؟ ہم اس امتحان میں اتارے کیوں گئے جہاں ہمیں بتایا ہی نہیں گیا کہ ہم اصل میں کون ہیں؟ پھر آج جب ایک ویڈیو دیکھی اُس میں  ایک شخص... بلکل عام سا سٹوڈنٹ جو کلاس میں late آیا اور  math کی equation homework سمجھ کر لکھ کر لے گیا جب 2 دن بعد solve کر کے لیا تو سب حیران رہ گئے کیونکہ اس نے 110 سال سے ناقابلِ حل ریاضی کا مسئلہ حل کر دیا  اور اسے معلوم بھی نہ تھا کہ یہ "ناقابلِ حل" ہے۔ یہ story ہے george dentzig کی ہے   تب ایک راز میرے سامنے کھلا: جب ذہن کو یہ نہ بتایا جائے کہ وہ محدود ہے  تو وہ لامحدود ہو جاتا ہے۔ اگر ہمیں سب کچھ پہلے سے معلوم ہوتا، تو ہم نہ امید رکھتے، نہ دعا کرتے، نہ جدوجہد کرتے۔ ہم یا تو گھمنڈ میں ڈوب جاتے یا مکمل مایوسی میں مر جاتے۔ اسلام میں astrology حرام ہے Future کے بارے میں معلومات حاصل کرنا  کیو...