دو مُختلف دنیائیں



کبھی ہم کسی سے کچھ سیکھتے ہیں…


 اور پھر اُسی سیکھے ہوئے کو اپنے انداز میں ڈھال لیتے ہیں۔ الفاظ بدل جاتے ہیں، لہجہ اپنا ہو جاتا ہے۔ اور لگتا ہے کہ یہ سب تو ہمارا ہی ہے۔

لیکن… 

کبھی کبھی اِس سب میں ہم بھول جاتے ہیں اُن لوگوں کو جن سے ہم نے سیکھا ہوتا ہے۔ 


جنہوں نے وہ پہلی چنگاری جلائی تھی۔


ہم uniqueness کے چکر میں ہوتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ ہماری اصل بنیاد کسی اور نے رکھی تھی۔


میرا ماننا ہے کہ ہمیں ہمیشہ mention کرنا چاہیے اُن لوگوں کو جنہوں نے ہمیں کچھ سکھایا ہو 


کیونکہ ہم اکثر کسی کو تب legend بناتے ہیں جب وہ ہم میں نہیں ہوتے۔


حالانکہ اصل بات تو یہ ہے کہ اُن کی قدر تب کی جائے جب وہ ہمارے پاس ہوں، ہمارے ساتھ ہوں۔


اب بات ہو صدف میم کی…

تو دل تھوڑا soft ہو جاتا ہے۔

پہلی کلاس تھی، پہلا دن… اور میں honestly کہوں تو وہ پہلی ہی lecture میں دل کے قریب لگنے لگی تھیں۔


اتنی آسانی سے سمجھا دیتی تھیں چیزیں، جیسے کوئی مشکل بات ہو ہی نہ۔ اور جو میں سمجھا نہیں پاتی تھی ۔۔


جو میرے اندر چل رہا ہوتا تھا لیکن انہیں الفاظ دینا میرے لیے مشکل تھا۔۔۔۔


تو آج اُنہی سے سیکھے گئے ایک topic کی بات کرنی ہے 


Semiotic


یعنی تصویروں کو نام دینا یہ عنوان دینا۔


یہ صرف تصویریں نہیں ہوتیں… یہ ایک سوچ ہوتی ہے۔

دنیا کو دیکھنے کا انداز۔


کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ دنیا لفظوں میں نہیں، تصویری شکل میں بنی ہے۔


ہر بندہ اُسے اپنی نظر سے دیکھتا ہے، اپنی understanding سے۔


اور دیکھنا صرف آنکھ سے نہیں ہوتا… بصیرت سے ہوتا ہے۔



اب آتے ہیں اُس فرق پر جو ہمیشہ confuse کرتا ہے 


تصور اور حقیقت


تصور وہ ہوتا ہے


 جو ہم اپنے دل، دماغ، خوابوں، ideas میں تخلیق کرتے ہیں، جو ہمارے visions ہوتے ہیں … جو بس ہمu محسوس کر سکتے ہیں، دنیا نہیں۔


اور حقیقت؟


 وہ جو واقعی میں موجود ہو، جو سامنے ہو، جو touch کی جا سکے۔


لیکن اِن دونوں کے بیچ ایک چیز کامن ہے:

نظریہ

Perspective.


ہم تصور بھی اپنے نظریے سے بناتے ہیں، اور حقیقت کو بھی اُسی نظریے سے دیکھتے ہیں۔


ہمارے experiences، ماحول، upbringing، سب کچھ مل کے وہ نظریہ بناتے ہیں 


اور یہی وجہ ہے کہ ایک ہی چیز کو ہر انسان الگ انداز میں دیکھتا ہے


*اسی لیے کتاب نازل ہوئی اسی* *لیے صحیح نظریے کے لیے رسولِ اللّٰہ صلی اللھ علیھ وآلھ وسلّم* 

*کو بیجھا گیا تاکہ وہ ہمارا نظریہ درست کر دیں*



علم صرف یاد رکھنا نہیں ہوتا…

علم شکرگزاری سے مکمل ہوتا ہے۔


اور میرے لیے، صدف میم اُن لوگو! میں سے ہیں جنہیں mention کرنا، acknowledge کرنا میرے لیے فخر کی بات ہے۔


کیونکہ جو اُن سے سیکھا… وہ صرف topics نہیں تھے وہ ایک انداز تھا دنیا کو دیکھنے کا۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

لا محدودیت

خول