لا محدودیت

میں اکثر سوچا کرتی تھی...

کہ ہماری ارواح کی وہ پرانی یادیں ہمیں کیوں نہ دی گئیں؟

وہ مقام، وہ ملاقاتیں، وہ وعدے 

جنہیں ہم نے لوحِ محفوظ سے پہلے کہیں کیا تھا 

وہ سب دھندلے کیوں ہو گئے؟


ہمیں وہ نظر کیوں نہیں آتی

جو ہم پہلے سے جانتے تھے؟

ہم اس امتحان میں اتارے کیوں گئے

جہاں ہمیں بتایا ہی نہیں گیا کہ

ہم اصل میں کون ہیں؟


پھر آج جب ایک ویڈیو دیکھی اُس میں 


ایک شخص... بلکل عام سا سٹوڈنٹ جو کلاس میں late آیا اور  math کی equation homework سمجھ کر لکھ کر لے گیا

جب 2 دن بعد solve کر کے لیا تو سب حیران رہ گئے


کیونکہ اس نے 110 سال سے ناقابلِ حل

ریاضی کا مسئلہ حل کر دیا 

اور اسے معلوم بھی نہ تھا

کہ یہ "ناقابلِ حل" ہے۔


یہ story ہے george dentzig کی ہے  


تب ایک راز میرے سامنے کھلا:

جب ذہن کو یہ نہ بتایا جائے کہ وہ محدود ہے 

تو وہ لامحدود ہو جاتا ہے۔


اگر ہمیں سب کچھ پہلے سے معلوم ہوتا،

تو ہم نہ امید رکھتے، نہ دعا کرتے، نہ جدوجہد کرتے۔

ہم یا تو گھمنڈ میں ڈوب جاتے

یا مکمل مایوسی میں مر جاتے۔


اسلام میں astrology حرام ہے Future کے بارے میں معلومات حاصل کرنا 

کیونکہ 

prediction انسان کو ظاہری

 علم کی قید میں ڈال دیتی ہے

جبکہ ایمان اسے غیبی یقین کی طرف لے جاتا ہے۔


اسی لیے ہماری ارواح کو اپنی پرانی پہچان سے محروم کر دیا گیا

تاکہ ہماری ہر "پہچان" ایک انتخاب بنے 

نہ کہ صرف ایک یاد۔


نفسیات کہتی Mind کی conditioning میں  جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ


"یہ بہت مشکل ہے..."

"یہ تو کسی سے نہیں ہوا..."

"یہ تمہارے لیے نہیں..."




تو ہم وہ سننا چھوڑ دیتے ہیں، جو ہمارے اندر سے آتا ہے۔


ہماری inner voice

ہماری outer programming کے نیچے دفن ہو جاتی ہے۔

اور ہم جان بھی نہیں پاتے 

کہ ہم نے زندگی میں جو کچھ نہیں کیا 

وہ ہماری نااہلی کی وجہ سے نہیں،

بلکہ ہماری سوچی گئی حدوں کی وجہ سے ہے۔


Law of attraction بھی اسی میں آتا ہے 

جیسا سوچو گے وہی پاؤ گے


 انسان automatically اُس چیز کی طرف attract ہونے لگتا ہے ویسا بننے لگتا ہے جیسا وہ سوچتا ہے


جیسے Nietzsche کہتا ہے:


"سچ وہ نہیں جو تمہیں بتایا گیا 

بلکہ وہ، جسے جاننے کی تم نے ہمت کی۔"



اسی لیے رُومی کہتے ہیں 


`تو نہ دانستی کہ خود را نیک و بد`

`تا بدی آید، برآید از خرد`


ترجمہ:

"تو نے خود کو اچھا یا برا جانا ہی نہ تھا

یہی وجہ ہے کہ برائی آئی، اور اس سے عقل بیدار ہوئی۔"


 علامہ اقبال کہتے ہیں 


خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

 


جب انسان اپنی بھولی ہوئی حقیقت کو خودی کے شعور سے واپس پاتا ہے،

تو وہ تقدیر کا لکھا نہیں پڑھتا 

بلکہ تقدیر کا نیا ورق لکھتا ہے


کیا یہ ممکن نہیں کہ

جن اصولوں کو ہم نے تقدیر مان لیا ہے،

وہ صرف پرانی نسلوں کا خوف زدہ تجربہ تھے؟


کیا ہم ان حدود کو از سر نو تعریف نہیں کر سکتے

جو صرف بیانیوں میں قید تھیں، حقیقت میں نہیں؟


کوانٹم فزکس کہتی ہے:


"Reality doesn’t exist until you look at it."

یعنی

جو ہم دیکھنے کی نیت رکھتے ھیں، وہی وجود میں آتا ہے۔


اگر ہمیں بتایا جائے کہ

ہم کچھ نہیں کر سکتے 

اور ہم اسے سچ مان لیں 

تو وہ ہماری حقیقت بن جائے گا۔


لیکن اگر ہم لاعلمی میں

کسی دیوار کو دیوار ماننے سے انکار کر دیں 

تو وہ دیوار خود ہی خود کو گرا دیتی ہے۔


ہماری روح کواس کی پچھلی منزلیںاس لیے بھلا دی گئیں

تاکہ ہمیں دوبارہ ہر چیز خود تلاش کرنی پڑے 

جیسے کوئی بچہاندھیرے میں ماں کی آواز تلاش کرتا ہے 

ایمان کی شدت سے،

عقل کی روشنی سے۔



 جب ہمیں یاد نہ ہو، تب ہم تخيلق کرتے ہیں اپنی reality 

اکثر کہا جاتا ہے 


necessity is the mother of invention 

جب تجسس اتنا بڑھ جائے کہ وہ ضرورت بننے لگے تو inventions ہوتی ہیں۔ تخلیقات ہوتی ہیں 


یادداشت رہنمائی دیتی ہے 

مگر بھول جانا inventor بنا دیتا ہے۔




جب ہمیں  کوئی راستہ معلوم نہ ہو،

تو ہم  نقشِ قدم بنا تے ہیں۔


جب ہمیں  بتایا نہ جائے

کہ کچھ ممکن ہے یا نہیں 

تب ہمارا شعور لا محدود بن جاتا ہے۔


اور شاید اسی لیے...

اللہ نے ہمیں سب کچھ بھلا کر

ایک خام صفحے پر اتارا 

تاکہ ہم محض تاریخ نہ بنیں، بلکہ نئی تاریخ لکھیں۔


تاکہ ہم ہر شے کو پہچان کر دوبارہ چُنیں۔


یہی انسان ہونے کا جمال ہے 

کہ ہم غیب میں جیتے ہیں،

لیکن اختیار کے ساتھ


"اگر تمہیں یہ نہ بتایا جائے کہ تم نہیں کر سکتے

تو تم ہر وہ چیز کر سکتے ہو

جسے باقی لوگ صرف خوابوں میں دیکھتے ہیں۔".   



written by :     Insha Zulfiqar (instagram)  


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

خول

دو مُختلف دنیائیں