خول
ہماری زندگی میں بہت سی چیزیں بار بار ہوتی ہیں، کچھ ہمیں سکھاتی ہیں اور کچھ ہمیں توڑ دیتی ہیں۔ انہی تجربوں کے بعد ہم اپنے اردگرد boundaries بناتے ہیں ایسی حدود جنہیں ہم دوسرے لفظوں میں خول بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ خول بُرے نہیں ہوتے۔ یہ ہمیں بار بار ایک ہی چیز کے ڈسنے سے بچاتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا سیف زون ہوتے ہیں۔ لیکن جیسے ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں خیر اور شر ایسے ہی ان خولوں میں بھی ایک نقصان ہے۔ جب کوئی چیز ہمارے پرانے زخم کو چھو لے، تو وہ خول ٹوٹنے لگتا ہے، اور ٹروما ہِٹ کر جاتا ہے۔ ٹروما ہوتا کیا ہے؟ ٹروما ایک اندرونی زخم ہے۔ یہ جسم پر نہیں، دل یا روح پر لگتا ہے۔ یہ کسی ایسے واقعے سے پیدا ہوتا ہے جو انسان کے برداشت سے باہر ہو۔ کبھی یہ ایک لمحے میں ہوتا ہے جیسے کسی عزیز کا چلے جانا، یا کوئی حادثہ۔ اور کبھی یہ آہستہ آہستہ بنتا ہے جیسے مسلسل نظراندازی، تذلیل، یا عدمِ محبت۔ باہر سے انسان ٹھیک لگتا ہے، لیکن اندر کہیں ایک زخمی بچہ چھپا ہوتا ہے۔ اور وہ زخم وقت گزرنے کے باوجود کبھی کبھار پھر سے جاگ اُٹھتا ہے۔ یہی ٹروما ہے ایک ماضی...
Very good blog, sister .
ReplyDelete