دو مُختلف دنیائیں
کبھی ہم کسی سے کچھ سیکھتے ہیں… اور پھر اُسی سیکھے ہوئے کو اپنے انداز میں ڈھال لیتے ہیں۔ الفاظ بدل جاتے ہیں، لہجہ اپنا ہو جاتا ہے۔ اور لگتا ہے کہ یہ سب تو ہمارا ہی ہے۔ لیکن… کبھی کبھی اِس سب میں ہم بھول جاتے ہیں اُن لوگوں کو جن سے ہم نے سیکھا ہوتا ہے۔ جنہوں نے وہ پہلی چنگاری جلائی تھی۔ ہم uniqueness کے چکر میں ہوتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ ہماری اصل بنیاد کسی اور نے رکھی تھی۔ میرا ماننا ہے کہ ہمیں ہمیشہ mention کرنا چاہیے اُن لوگوں کو جنہوں نے ہمیں کچھ سکھایا ہو کیونکہ ہم اکثر کسی کو تب legend بناتے ہیں جب وہ ہم میں نہیں ہوتے۔ حالانکہ اصل بات تو یہ ہے کہ اُن کی قدر تب کی جائے جب وہ ہمارے پاس ہوں، ہمارے ساتھ ہوں۔ اب بات ہو صدف میم کی… تو دل تھوڑا soft ہو جاتا ہے۔ پہلی کلاس تھی، پہلا دن… اور میں honestly کہوں تو وہ پہلی ہی lecture میں دل کے قریب لگنے لگی تھیں۔ اتنی آسانی سے سمجھا دیتی تھیں چیزیں، جیسے کوئی مشکل بات ہو ہی نہ۔ اور جو میں سمجھا نہیں پاتی تھی ۔۔ جو میرے اندر چل رہا ہوتا تھا لیکن انہیں الفاظ دینا میرے لیے مشکل تھا۔۔۔۔ تو آج اُنہی سے سیکھے گئے ایک topic ...